Columns کاروان ناجیہ

Views: 4235

فرقہ واریت ابتدا سے انتہاء تک شر ہے

فرقہ واریت ابتدا سے انتہاء تک شر ہے

تحریر: حضرت محمد ظفر منصورؔ مدظلہ العالیٰ
بانی و سر پرست ِ اعلیٰ عالمی روحانی جماعت کاروانِ ناجیہ

*.. فرقہ واریت کے اسباب اور عوامل کیا ہیں؟ 

*.. کیا فرقہ واریت جان لیوا مرض ،گناہِ کبیرہ اور ایمان کے زوال کا باعث نہیں؟

*.. فرقہ واریت کی بڑھتی ہوئی آگ سے ہمارا مستقبل کیا ہو گا؟ 

*.. کیا قرآن و سنت وحدت اور اتفاق کا درس دیتے ہیں یا فرقہ واریت اور نفاق کا؟ 

*.. کیا وہ اختلافات جن کو ہم نے دین کی بنیاد اور اساس بنایا ہوا ہے اللہ اور اللہ کے محبوبﷺ کے احکامات سے بغاوت نہیں؟

*.. کیا فرقہ واریت کا خاتمہ ممکن ہے؟ 

یہ وہ سوالات ہیں جنہوں نے ہر صاحبِ فکر کو پریشان کر رکھا ہے اور ان سوالات کا قرآن و سنت کی روشنی میں حقیقت پسندانہ جوابات دینا ہر مسلمان بالخصوص علماء اور مشائخ حضرات کی ذمہ داری ہے۔ اگر آج ہم نے ان سوالات کا مثبت جواب نہ دیا تو وہ مسلمان جو ہمارے مقلدین، عقیدت مند یا کسی بھی حوالے سے ہمارے ساتھ منسلک ہیں انکے جرائم میں ہم برابر کے شریک ہوں گے۔ فرقہ واریت انفرادی جرم نہیں بلکہ اجتماعی جرم ہے جس کے مضر اثرات دوسرے کبیرہ گناہوں سے بھی زیادہ پورے عالمِ اسلام کو متاثر کر رہے ہیں۔

    فرقہ واریت درحقیقت احکاماتِ الٰہی اور حضور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات اور انکے بتائے ہوئے طور طریقوں سے سرکشی اور بغاوت کر کے ایک علیٰحدہ راہ اختیار کر لینے کو کہتے ہیں۔ فرقہ واریت ابتداء سے انتہا تک شر ہے اور شر کبھی بھی شریعت نہیں ہو سکتا اور شریعت وہ حقیقت ہے کہ جس پر عمل کیے بغیرعالمِ اسلام میں امن قائم کرنا نا ممکن ہے۔
    قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی رحمتﷺ پر تمام عالمِ انسانیت کی دنیاوی اور اخروی نجات اور فلاح و بہبود کیلئے نازل ہوا ہے جس کا مقصد اوامر اور منھیات پر عملی طور پر کاربند ہونا ہے مگر آج ہر فرقہ اس مقدس کتاب کی آیات کو اپنی رائے سے دوسرے فرقے کو باطل اور اپنے آپ کو حق ثابت کرنے کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ رب العزت نے ہمیں نجات کا واضح رستہ بتا دیا ہے کہ اگر تم نجات کے طلبگار ہو، اگر تم میری رضا چاہتے ہو تو آپ کو میرے محبوبﷺ کی تابعداری کرنا ہو گی۔مگر آج حکمِ خداوندی کو پسِ پشت ڈال کر ہر مسلک قرآنِ عظیم الشان کی ایک علیٰحدہ اپنی منشا کے مطابق تشریح کرکے اسے اپنے مسلک کے پرچار کیلئے استعمال کر رہا ہے جسکے نتیجے میں امت کا شیرازہ بکھر رہا ہے اور ہر روز پہلے سے زیادہ منتشر ہوتی جا رہی ہے۔ 
    چاروں مذاہب حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی حق ہیںاور انکے درمیان معمولی فروعی اختلافات بوجہ عقیدت، محبت اور دین کے اندر اجتہادکیلئے باعثِ رحمت ہیں لیکن ان اختلافات کو بنیاد بنا کر دین کے اندر دراڑیں پیدا کرنا، دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا اور اپنے کلمہ گو بھائیوں پر کفر و شرک کے فتوے لگا کر دین کے اندر تفرقے پیدا کرنا سراسر ظلم، خدا کے قانون کی کھلی خلاف ورزی اور شریعتِ محمدیﷺ سے بغاوت ہے۔ آج کے نام نہاد علماء و مشائخ کے لگائے گئے فتووں سے اگر شیعہ کافر،بریلوی مشرک اوردیوبندی گستاخِ رسولﷺ ہے تو خدارا کوئی یہ تو بتائے کہ مسلمان کون ہے؟

دین کی حقیقت کبھی بھی مناظرے،کفرو شرک کے فتوے یا قتل و غارت سے ثابت نہیں ہو سکتی بلکہ دین کی حقیقت کو ثابت کرنے کیلئے خلقِ عظیم، محبت، سچائی، دیانتداری، صدق و صفااور عدل و انصاف کی ضرورت ہے۔ دینِ اسلام امن کا پیامبر، اخوت کا داعی، محبت اور مساوات کا علمبردار ہے اور یہ دین کسی کو دوسروں کے عقائد اور رہنماؤں پر تنقید کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دیتا۔

    قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ 

                                                  ترجمہ: بیشک اہلِ ایمان بھائی بھائی ہیں

اس مقدس فرمان کو سامنے رکھ کر اگر موجودہ مسلم معاشرے کا مشاہدہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اسلام سے ہم بہت دور جا چکے ہیں۔ خدا کے اس فرمان کی عملی تصویر ہمیں تقریباً ساڑھے چودہ سو سال قبل اُن جانثارانِ اسلام کے عمل و کردار سے ملتی ہے جب مسلمان مکے سے ہجرت کر کے بے سروسامانی کے عالم میں مدینے پہنچے تو فدا ہو جائیں اُن انصار پر کہ اپنے بھائیوں کیلئے دل کے دروازے کھول دیئے اور مال، جائیداد میں ایسے حقدار ٹھہرایا کہ کسی کو محرومی کا احساس تک نہ ہونے دیا مگر صد افسوس آج مسلمان کے حال پر کہ بھائی کی بھائی سے جان ،مال اور عزت غیر محفوظ ہیں۔ 
    آج ہمارے ایمان کی یہ حالت ہو چکی ہے کہ ہمدردی اور غمخواری تو دور کی بات ہے، مسلمان مسلمان کو خوش دیکھنا بھی گوارا نہیں کر سکتا۔ ایک کلمہ گو دوسرے کلمہ گو پر کفر و شرک کے فتوے لگا کر اسے باطل اور خود کو حق ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ علم حاصل کرتے ہیں تو دوسروں کو زیر کرنے کیلئے، دولت حاصل کرتے ہیں تو دوسروں پر برتری ثابت کرنے کیلئے، گویا ہمارے ہر عمل کی بنیاد نفرت، حسد اور خودی ہے جو کہ قرآن و سنت سے عملی طور پر سرکشی اور بغاوت ہے۔ 
    زمانے کی زبوں حالی اس امر کی شاہد ہے کہ اغیار نے اپنے مذموم اغراض و مقاصدپورے کرنے کیلئے مسلمانوں کو اختلافی مسائل میں الجھا کر انہیں اندر سے کھوکھلا اور بدنام کر دیا ہے۔ اغیار کے ہاتھوں بک جانے والے نام نہاد اور دین فروش علماء و مشائخ نے اسلام دشمن سازشوں کو پورا کرنے کیلئے دینِ اسلام میں اپنی طرف سے ملاوٹ کر کے مسلمانوں کے اندر اتحاد اور اتفاق جیسی عظیم قوت کو منتشر کر دیا ہے نتیجتاً آج مسلمان مسلمان کا دشمن بن چکا ہے اور اپنے ہی بھائی کو قتل کرنے پر آمادہ ہے۔ ہمارے اسی نفاق کی وجہ سے آج ہم ساری دنیا میں رسوا ہو رہے ہیں۔ مسلمان کو دہشت گرد اور انتہا پسند کے لقب سے یاد کیا جا رہا ہے۔ ہمارے برے عمل کی وجہ سے دینِ اسلام کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ اگر یہی صورتِ حال رہی تو دنیا میں ہمارا نام و نشان تک نہ رہے گا اور کوئی ہمیں اس بربادی سے بچا نہ سکے گا۔ 
    اغیار سے ہمیں کیا گلہ ہو سکتاہے جبکہ دینِ اسلام کا گلشن خود اپنوں نے اجاڑا ہے۔ مسلمان پر گمراہی اور کفر کے فتوے دینے والا، شیعہ کو کافر، بریلوی کو مشرک اور دیوبندی کو گستاخِ رسولﷺ کہنے والا کوئی غیر مسلم نہیں بلکہ کلمہ گو خود ہیں۔ ذلت اور رسوائی کی اس تاریکی سے نکلنے کیلئے ہمیں ہر صورت اپنی خود سری اور منافقانہ روش بدلنا ہو گی۔ آج پورا عالمِ اسلام نفرت، دشمنی اور تفریق کے عمیق گڑھے میں ڈوبا ہوا ہے۔ بقاء کا صرف یہی رستہ ہے کہ مسلمان مسلمان کا غمخوار اور ہمدرد بن کر اپنے بھائی کو سینے سے لگا لے۔ محبت اور دوستی کو اپنی زندگی کا شیوہ بنا کر ذاتی اغراض و مقاصد سے دل کو پاک کر لے اور ساری انسانیت کیلئے اپنا سینہ کھول دے۔ دوسروں کی عقیدت پر تنقید سے گریز کیا جائے کیونکہ عقیدت انسانی فطرت کا انتخاب ہے اور دینِ اسلام کسی کی عقیدت کو جبروتشدد سے تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دیتا ۔ موجودہ  وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر مسلمان اپنے پیشو اﷺ کی سیرت ِ پاک کو زندگی کیلئے مشعلِ راہ بنا لے۔ 
    خدا کی قدرت کے بعد مخلوق میں عظیم طاقت اتفاق ہے۔ فرقہ واریت وہ لعنت ہے جس کی وجہ سے مسلمان اپنی طاقت اور قوت کو کھو کر دنیا کے ہر کونے میں غیروں کے اسیر بن چکے ہیں۔ آج غیر لوگ مسلمانوں کی عزت سے کھیل رہے ہیں لیکن مسلمان اپنے بھائی کو وحدت اور محبت کا درس دینے کی بجائے تفریق اور فرقہ پرستی جیسے گھنائونے فعل کی جانب اُکسا رہا ہے۔ یاد رہے کہ فرقہ پرست کسی صورت میں بھی حق پرست نہیں ہو سکتا۔ مسلمان کی کامیابی اور فلاحِ دارین کا واحد رستہ اتباعِ رسولِ کریمﷺ ہے۔ اس سے ہٹ کر دوسرا رستہ اختیار کرنا یا نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے قانون کی ذرا بھر خلاف ورزی ہمارے لئے کھلی گمراہی، بہت بڑی ہلاکت اور دردناک عذاب ہے۔ ہمارا گفتار اور کردار قرآن و سنت کے منافی نہیں ہونا چاہیے۔ وہ تعلیماتِ نبویﷺ جن کو آپﷺ نے ہم تک پہنچانے کیلئے مصائب کے پہاڑ اپنے اوپر برداشت کئے ان تعلیمات کو اپنی زندگی کیلئے مشعلِ راہ بنا کر ساری انسانیت کیلئے مسیحا ثابت ہونا چاہیے۔ ہمیں دنیاوی مفادات پر دین کو اور ذاتی مفادات پر اجتماعی مفادات کو ترجیح دینا ہو گا۔ دینِ اسلام کی حقیقت کو سمجھ کر اس پر عمل کرنا ہو گا اور دوسروں کو عمل کی طرف دعوت دینا ہو گا۔ افسوس ہے آج مسلمان کے حال پر کہ اسلام کی سیرت اور حقیقت سے بے خبر ہو کر اسلام دشمن اور دین فروشوں کی تقلید میں مصروف ہے اور اپنے آپ کو صراطِ مستقیم کا مسافر بھی سمجھتا ہے۔ حالانکہ صراطِ مستقیم تو ان لوگوں کا رستہ ہے جنہوں نے نجات حاصل کی ہے جو خدا کے انعام یافتہ لوگ ہیں۔ صراط مستقیم تو ان لوگوں کا رستہ ہے جنہوں نے ظلم سے جہاد کر کے معاشرے میں عدل رائج کیا ہے اور سماج کو برائیوں سے پاک کیا ہے۔ انعام یافتہ لوگ ذات پرست، مسلک پرست، فرقہ پرست، تنظیم پرست اور قوم پرست نہیں بلکہ حق پرست ہوتے ہیں اور حق بولنے اور حق کا ساتھ دینے میں لاخوف ہوتے ہیں۔ 
    تمام اہلِ فکر مسلمانوں بالخصوص علماء اور مشائخ حضرات پر فرض ہے کہ موجودہ عالمی حالات اور وقت کے تقاضوں کے مطابق لوگوں کو دینِ اسلام کی حقیقت سے آگاہ کریں تاکہ امتِ مسلمہ تفرقوں کی جنگ سے نکل کر باہمی وحدت و اخوت کے دائرے میں شامل ہو جائے۔ موجودہ وقت امتِ مسلمہ سے اپنے اسلاف کے درخشاںماضی کو حال میں اپنے عمل وکردارسے ثابت کرنے کا شدید تقاضا کرتا ہے،صرف زبانی کلامی تقریروں اور نعروں سے امت کا موجودہ پستی سے نکلنا نا ممکن ہے۔ہر اہل فکر اور امت کا درد رکھنے والے مسلمان پر لازم ہے کہ وہ امت کو موجودہ ذلت سے نجات دلانے کے لیے حقائق کی روشنی میں صراطِ مستقیم کا اتنخاب کر کے عزم اور غیر ت سے عمل کے میدان میں اپنا کردار ادا کرے، تاکہ امتِ مسلمہ کا ڈوبتا ہوا سفینہ تباہ و برباد ہونے سے بچ جائے۔ 
 

 

 

Karwan-e-Najia Advertisement

وڈیوز

- Live Chat

8 PM to 9 PM (PST)

Refresh the page if the form is visible after submission.